30 مارچ 2015 - 12:45
سعودی عرب اور یمن کی فوجوں کے درمیان جنگ

تحریک انصاراللہ اور سعودی عرب کی جارح افواج کے درمیاں بعض سرحدی علاقوں میں لڑائی ہورہی ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق یمن کے شمالی صوبے صعدہ کے مغربی حصے میں تین محاذوں پر تحریک انصاراللہ اور سعودی فوجیوں کے درمیان لڑائیاں ہورہی ہیں- اطلاعات کے مطابق تحریک انصاراللہ کے انقلابی جیالوں نے الظاہر، شداء اور رازح علاقوں سے سعودی فوجی ٹھکانوں پر میزائلوں سے حملے کئے ہیں- اس رپورٹ کے مطابق صوبہ صعدہ کے ایک مقامی عھدیدار نے کہا ہے کہ لڑائی ایسے وقت سے شروع ہوگئ تھیں جب سے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن میں تحریک انصاراللہ اور عوامی کمیٹیوں کے ٹھکانوں پر جارحیت شروع کی تھی- دوسری طرف سے یمن کے سرحدی صوبے صبیاء میں وزارت تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ اس سرحدی علاقے میں دس اسکول ایک ہفتے تک بند رہیں گے- اس رپورٹ کے مطابق یمنی فوج کی اینٹی ایر کرافٹ یونٹوں نے سعودی عرب کے ایک اور جنگی طیارے کو مار گرایا ہے- سعودی عرب کا طیارہ صوبہ مارب کے حورہ علاقے میں مار گرایا گیا ہے-موصولہ اطلاعات کے مطابق تحریک انصاراللہ کے جوانوں نے صوبہ مارب پر القاعدہ سےوابستہ تکفیری دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنادیا ہے- تحریک انصاراللہ اور عوامی کمیٹیوں کی فورسز‎سز نے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے فضائی حملوں نے القاعدہ کے تکفیری دہشت گردوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے-ادھر نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق سابق صدر عبداللہ صالح کی وفادار فوج نے شہر ابین کے مشرقی علاقے سے عدن پر حملے کا آغاز کردیا ہے- ان رپورٹوں کے مطابق عبداللہ صالح کی فوج عدن سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے- واضخ رہے کہ سعودی عرب اور اس کے پٹھوؤں کے حملوں میں یمن کی بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنایا جارہا ہے- جبکہ آل سعود کی جارحیت میں یمن کے درجنوں بے گناہ شہری شہید اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں- شہید ہونے والے میں زیادہ تر تعداد خواتین اور بچوں کی ہے- آل سعود کی جارحیت میں یمن میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیل رہی ہے- ادھر عالمی اداروں نے یمن پر جارحیت کرنےوالےملکوں سے کہا ہے کہ عام شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز کریں- یمن کی وزارت صحت نے آل سعود کی وحشیانہ جارحیت میں زخمی ہونے والوں کی طبی امداد کے لئے ایک سو پچاسی ایمبولینسوں کوذمہ داریاں سونپ رکھی ہیں- اس درمیان اطلاعات کے مطابق یمن کی سیاسی پارٹیوں نے اپنے ملک پر آل سعود کی جارحیت کی بھرپور مذمت کی ہے- عراق کے قبائیل نے بھی یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اپنے یمنی بھائیوں کی مدد کرنے پر آمادگی کا اعلان کیا ہے- التحریر اور البناء قبیلوں کے سردار محمد الدالنبوس نے صوبہ بصرہ کے بعض قبیلوں کے عمائدین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ اور ان کے ساتھی قبائیل تحریک انصاراللہ کی مدد کرنے کےلئے تیار ہیں- ادھر تحریک انصاراللہ کے سینئر رہنما نے کہا ہے کہ یمن کے بحران کو حل کرنے کے لئے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں- محمد البخیتی نے کہا کہ یمن میں دیگر ملکوں کی مداخلت کا خاتمہ ہونا چاہیے کیونکہ یمن آج متعدد مسائل میں گرفتار ہے اور سیاسی راہ حل کے فقدان اور مداخلتوں کی وجہ سے یہ بحران بدستور جاری ہے-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲